Ministry of Planning
Development & Special Initiatives
Public Awareness Campaign ON Corruption: "United Against Corruption for a Prosperous Pakistan....."

Press Release

Planning Commission disseminate study to inform ge...

Published : 12 May 2022

Following the launch of the National Gender Policy Framework for Pakis...


Cancer Hospital in ICT to be revived soon: Ahsan ...

Published : 12 May 2022

Federal Minister for Planning,Development & Special Initiatives Profes...


وفاقی وزیر برائے منصوبہ بن...

Published : 10 May 2022

جلاس میں ایچ ای سی کے عہدہداران کی شرکت...


وفاقی وزیر برائے منصوبہ بند...

Published : 10 May 2022

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبا...


بچے قوم کا مستقبل ہیں ان کی تعلیم پر سیاست کسی طور پر منظور نہیں، اسد عمر

Dated : 4 January 2022

وفاقی وزیر براۓ منصوبہ بندی اسد عمر کی زیر صدارت وفاقی نظامت تعلیم ( فیڈرل ڈائیریکٹوریٹ آف ایجوکیشن) کے تحت آئی سی ٹی کے 200 تعلیمی اداروں میں بنیادی تعلیمی سہولیات کی فراہمی ہر ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا ۔ جائزہ اجلاس میں وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے سی ڈی اے علی نواز اعوان ، ایڈیشنل سیکرٹری وزارت تعلیم ، ڈی جی ایجوکیشن اور سینئر حکام نے شرکت کی۔

ایڈیشنل سیکرٹری ایجوکیشن نے اجلاس کو آگاہ کیا کہ پروجیکٹ مینجمنٹ یونٹ کے قیام پر کام جاری ہے کنسلٹنٹس کی بھرتی کو جنوری 2022 کے آخر تک حتمی شکل دے دی جائے گی۔ کنسلٹنٹ کنٹریکٹر کو شامل کرنے کے لیے ایک ماہ کے اندر انجینئر تخمینہ تیار کرے گا۔ ، تین بڑی کنٹریکٹ کمپنیاں بیک وقت کام شروع کریں گی تاکہ اسکولوں کی اپ گریڈیشن کا کام جلد از جلد مکمل کیا جا سکے ۔ انھوں نے مزید بتایا کہ یہ کام مئی سے جون 2022 تک شروع ہونے کا امکان ہے۔
اسکولوں کی اپ گریڈیشن کے معیار کو یقینی بنانے کے لیے اسد عمر نے فیڈرل ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن کو اعلیٰ سطح کی کنسلٹنسی فرموں کی خدمات حاصل کرنے کی ہدایت دیں ۔ اور اسکولوں کی اپ گریڈیشن کو جلد از جلد مکمل کرنے کا کہا۔

اجلاس میں اسلا م آباد میں اساتذہ کی جانب سے جاری ہڑتال پر بھی وفاقی وزیر کو آگاہ کیا گیا۔ اسد عمر نے حکام کو جلد از جلد یہ مسئلہ حل کرنے کی ہدایات دیں اور کہا کہ اساتذہ کے جائز مطالبات کو سننا اور پورا کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے ، بچے قوم کا مستقبل ہیں کسی صورت بھی بچوں کی تعلیم کا نقصان نہیں ہونا چاہئے۔