Ministry of Planning
Development & Special Initiatives
Public Awareness Campaign ON Corruption: "United Against Corruption for a Prosperous Pakistan....."
Safety Measures: "Public Awareness Messages to Avoid Covid-19 Pandemic..."

Press Release

Federal Minister for Planning Development & Specia...

Published : 25 September 2020

Federal Minister for Planning Development & Special Initiatives Asad U...


A meeting of the Cabinet Committee on Energy (CCOE...

Published : 24 September 2020

A meeting of the Cabinet Committee on Energy (CCOE) was held under the...


Minister for Planning, Development & Special Initi...

Published : 23 September 2020

Minister for Planning, Development & Special Initiatives chaired a mee...


Federal Minister for Planning, Development and Spe...

Published : 23 September 2020

Federal Minister for Planning, Development and Special Initiatives Asa...


صحت کے نظام کے استحکام کے لئے تمام صوبوں کا اتحاد

Dated : 13 August 2020

پلاننگ کمیشن کی جانب سے تمام صوبوں کا اجلاس بلایا گیا جس میں کوویڈ 19 وبائی مرض کے دوران ہونے والے واقعات و تجربات اور صحت کے مضبوط نظام کے لئے کلیدی،ترجیحی اقدامات کی نشاندہی کی گئی۔ اجلاس کی صدارت ممبر سوشل سیکٹر، ڈاکٹر شبنم سرفراز نے کی۔ قومی منصوبے پی ایس ڈی پی 2021-2020 میں کوویڈ 19 کے لئے مختص 70 ارب روپے کی وفاقی فنڈنگ کی نشاندہی کی گئی اوریہ وفاقی فنڈز کوویڈ 19 ردعمل، منصوبہ بندی میں صوبوں کی حمایت کرنے کے عزم کا عکاس ہیں۔

ڈاکٹر شبنم سرفراز نے گذشتہ قومی مشاورتی اجلاس کے بعد ہونے والی پیشرفت کے بارے میں فورم کو آگاہ کیا۔ ڈاکٹر شمبنم نے اجلاس کو بتایا کہ منصوبہ بندی کے عمل کو آسان بنانے کے لئے ورکنگ گروپس کی تشکیل بھی شامل تھی، اس وقت تمام تحصیل اور ڈسٹرکٹ میں ایک تیز ڈیٹا اسٹاک کے لئے قومی صحت سہولت کی تشخیص عمل میں لائی جارہی ہے اور ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اور ڈسٹرکٹ ہاسپٹل آف پاکستان، اور تکنیکی وسائل کی نقشہ سازی کا عمل جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک مماثل گرانٹ اسکیم ہے جو ہر صوبے کی ضرورت کے مطابق تیار کی جائے گی، جس پر عملدرآمد کے لئے رقم فراہم کی جائے گی۔ انہوں نے منصوبہ بندی کمیشن کے کردار کے بارے میں تفصیلاً آگاہ کہ پہلے مرحلے کے دوران صوبوں کو مطلوب تندرستی، تکنیکی بیک اپ کو پیش کیا گیا اور بعد میں صوبوں کے طے شدہ سنگ میل کے مطابق پیشرفت کی نگرانی کی جائے گی۔
انہوں نے صوبوں پر زور دیا کہ وہ موجودہ تکنیکی وسائل تشخیصوں کو بروئے کار لا کر منصوبہ بندی کے عمل کو تیز کریں اور عمل درآمدمیں آگے بڑھ سکیں۔
انہوں نے مستقبل میں ایسے حالات سے نمٹنے کے لیے صحت کے انسانی وسائل پیدا کرنے پر زوردیا۔ انہوں نے این ڈی ایم اے کے کردار کا سراہا۔


سیکرٹری صحت خیبر پختونخوا، سید امتیاز حسین شاہ نے آگاہ کیا کہ، کے پی کے نے مارچ میں ٹیسٹنگ گنجائش بڑھا کر تقریبا 5000 ٹیسٹ یومیہ کیااور این ڈی ایم اے تعاون سے 250 بسترکے اسپتال قائم کیئے گئے۔ اسپیشل سکریٹری، اسپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر پنجاب نے صوبے میں آئی سی یو کی استعداد بڑھانے کے بارے میں آگاہ کیا اور صوبے میں وفاقی حکومت کے تعاون کو سراہا۔
سکریٹری صحت سندھ ڈاکٹر کاظم حسین جتوئی نے تمام صوبائی حکومتوں اور وفاق کے مربوط ردعمل کو سراہا اور صوبائی ٹیلی میڈیسن اقدامات کے بارے میں بتایا جس کے تحت 1000 ڈاکٹروں نے آن لائن مشورے دیئے۔ سکریٹری صحت آزاد جموں و کشمیر، سہیل اعظم نے صوبے کی اہم ترجیحات پر روشنی ڈالی اور NIH کے تعاون کو سراہا۔
ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ گلگت بلتستان نے وفاقی حکومت کے تعا ون کو سراہا۔کے ڈاکٹر محمد سلمان نے قومی صحت عامہ کے لیب لیب انفراسٹرکچر کے بارے میں ایک جامع پریزنٹیشن پیش کی، قومی عوامی صحت کے نیٹ ورک ایم این ایچ آر سی کے ڈاکٹر مبین افضل نے صحت عامہ کی قانون سازی اور چیلنجز کا بارے آگاہ کیا فیڈرک ڈائرکٹر جنرل ہیلتھ ڈاکٹر صافی نے تمام صوبوں کے ایک ساتھ /انے کو سراہا اور بتایا کہ پچھلے چار مناہ میں ایس او پیز تیار کی گئیں جس پر صوبے آزادانہ عمل درآمد کر یں گے
اجلاس کے دوران ڈاکٹر شبنم سرفراز نے کہا کہ "ہم اس وباء سے تنہانہیں لڑسکتے جب تمام صوبوں میں ایک جامع نقطہ نظر نہ ہو۔ آج ہم کھڑے ہیں تو "اللہ کے بعد وہ قیادت ہے جو مؤثر طریقے سے سنبھالنے میں فیصلہ کن ثابت ہوئی ہے۔

ڈاکٹر شبنم نے وفاقی حکومت اور خصوصی طور پر پلاننگ کمیشن کی جانب سے صحت کے نظام کی تعمیر،انسانی صلاحیتوں کے استحکام اور مستحکم نظام صحت کے انفراسٹرکچر کے میکانزم کے لئے صوبوں کے تعاون کو سراہا اورمستقبل میں منصوبوں کو حتمی شکل دینے کے لئے پلاننگ کمیشن سے تعاو ن کا یقین دلایا۔ اس اجلاس میں ایم این ایچ ایس آر سی اینڈ سی، این آئی ایچ، ہیلتھ سروسز اکیڈمی، فنانس ڈویژن، پلاننگ کمیشن، اور صوبائی پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ اور صحت کے محکموں کے سینئر عہدیدار شریک ہوئے۔