Ministry of Planning
Development & Special Initiatives
Public Awareness Campaign ON Corruption: "United Against Corruption for a Prosperous Pakistan....."

Press Release

CDWP considering resource constraints for developm...

Published : 18 May 2022

The Central Development Working Party (CDWP) is considering resource c...


The 105th meeting of the National Accounts Committ...

Published : 18 May 2022

The 105th meeting of the National Accounts Committee to review the ...


PD&SI Minister pays visit at Gawdar ...

Published : 17 May 2022

Federal Minister for Planning, Development & Special Initiatives Profe...


Planning Commission disseminate study to inform ge...

Published : 12 May 2022

Following the launch of the National Gender Policy Framework for Pakis...


وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی ترقی و خصوصی اقدامات اسد عمر کی زینب کی دوسری برسی کے موقع پر پریس کانفرنس اور زینب کے اہل خانہ کے ساتھ اظہار تعزیت

Dated : 24 January 2020

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی ترقی و خصوصی اقدامات اسد عمر کی زینب کی دوسری برسی کے موقع پر پریس کانفرنس اور زینب کے اہل خانہ کے ساتھ اظہار تعزیت


اسد عمر نے کہا کہ زینب بل نیشنل اسمبلی سے پاس ہو چکا ہے اور سینٹ میں زیر غور ہے جسکے بعد اس قانون پر عمل درآمد شروع ہوگا۔

حکومت کا مقصد نظام میں ایسی تبدیلی لانا ہے اور ایسا رپورٹنگ سسٹم بنانا ہے تاکہ واقعے کے خلاف جلد از جلد ایکشن لیا جائے اور جان بچائی جا سکے۔ اس کے علاوہ اس قانون کے تحت ایسی سزائیں دلوانا ہے تاکہ لوگ آئیندہ عبرت پکڑ سکیں اور ایسے واقعات کی روک تھام ہو۔

وفاقی وزیر اسد عمر کا کہنا تھا کہ زینب الرٹ ریکوری اتھارٹی کو قائم کیا جا رہا ہے۔ اتھارٹی کے قیام کے بعد انتظامی ڈھانچے میں بھی تبدیلیاں لائی جائیں گی۔

پولیس کے نظام کو بہتر بنانے کا مقصد معاشرے کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔ اس ضمن میں وزیراعظم ابتدائی کاروائی سے مطمئن ہیں۔

حکومتوں اور ریاستوں کی اولین ذمہ داری معصوم بچوں کی حفاظت ہے

زینب کے والد جن حالات سے گزرے وہ نہایت تکلیف دہ صورتحال ہے۔ شیری مزاری سے ریکوسٹ کی کہ زینب بل کو حکومت کا بل بنایا جائے۔ا

وفاقی وزیر منصوبہ بندی نے کہا کہ انہوں نے وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار کو درخواست کی ہے کہ پنجاب میں بھی یہ بل پاس کروایا جائے۔

عدلیہ، پولیس، اور پورا پاکستان اگر اس بل پر متفق ہو جائے تو ایسے واقعات پر کنٹرول پایا جا سکتا ہے ۔