Public Awareness Campaign ON Corruption: "United Against Corruption for a Prosperous Pakistan....."

Press Release

Meeting of the Central Development Working Party c...

Published : 16 July 2018

Senior officials of the federal / provincial governments represented t...


CPEC has made substantive progress in last 05 year...

Published : 11 July 2018

اسلام آباد ( ) وفاقی وزیر برائے منصوبہ ...


وزارت منصوبہ بندی کے زیر اہ...

Published : 11 July 2018

اس کانفرنس کی مہمان خصوصی نگران وفاقی ...


Important Points highlighted by the Minister for P...

Published : 11 July 2018

The minister for Planning while talking on the occasion commended Mini...


وزارت منصوبہ بندی ترقی و اصلاحات میں تیز تر معاشی ترقی کے لیے روزگار کے مواقع فراہم کرنے پر ایک روزہ سیمینار کا انعقاد کیا گیا

Dated : 4 July 2018


وزارت منصوبہ بندی ترقی و اصلاحات میں تیز تر معاشی ترقی کے لیے روزگار کے مواقع فراہم کرنے پر ایک روزہ سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔ سیمینار کا اہتمام وزارت منصوبہ بندی کے میکرو اکنامک شعبے کی جانب سے کیا گیا تھا۔ سینینار سے جوائنٹ چیف اکانومسٹ رائے ناصر علی خان، پاکستان بزنس کونسل کیے ریزیڈنٹ ڈائریکٹر سرود بنگش، معروف ماہر معاشیات ڈاکٹر عبور غیور نے خطاب کیا۔ وفاقی سیکریٹری منصوبہ بندی کے زیر صدارت ہونے والے اس سیمینار کے مہمان خصوصی اسٹیٹ بنک کے سابق سربراہ اور معروف ماہر معاشیات ڈاکٹر عشرت حسین تھے۔ ڈاکٹر عشرت حسین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان زرعی اور قدرتی وسائل سے مالا مال ملک ہے جہاں صنعتی فروغ اور پیداواری صلاحیت میں اضافے کی بے پناہ صلاحیت موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں چھوٹے پیمانے پر موجود صنعتوں کی ترقی کی طرف توجہ دینے کے ساتھ ساتھ انہیں جدید بنانے کی ضرورت ہے۔ ہمیں مزدوروں کی مہارت اور صلاحیتوں میں بہتری لانے کے لئے جدید ذرائع اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ ڈاکٹر عشرت حسین کا کہنا تھا کہ ترقی کی راہ پر گامزن ہونے اور ترقی کے عمل کو پائیدار بنیادوں پر استوار کرنے کے لئے صنفی امتیاز کا خاتمہ کرنے اور مرد و خواتین کو آگے بڑھنے مساویانہ مواقع فراہم کرنا ہونگے۔ پیداوار اور روزگار کے حوالے سے درست اعداد و شمار پر مبنی طلب کا تعین ہماری قومی آمدنی کے دو بڑے پہلو ہیں جنہیں سامنے رکھ کر ہی روزگار کی فراہمی اور اس کے ذرائع پیدا کئے جا سکتے ہیں۔ صنعتی ترقی کے لئے پیداوار کی طلب کا تعین اور پیداوار کے لئے ذرائع پیداوار کی فراہمی ناگزیر ہے۔ یہی وہ اہم نکتہ ہے جس سے انسانی وسائل کی فراہمی کا بھی تعین کیا جاتا ہے۔ ڈاکٹر عشرت نے کہا کہ 1999 سے 2000 کے درمیان پاکستان میں سیمنٹ سٹوریج کی صلاحیت 18 ملین ٹن تھی جبکہ اس کی اصل کھپ 9 ملین ٹن تک تھی۔ 2007 میں تعمیراتی شعبے میں ترقی کی وجہ سے سیمنٹ کی ضرورت بڑھ کر 32 ملین ٹن ہو گئی، اگر موجودہ شرح سے ترقی اور نمو کا عمل جاری رہا تو یہ ضرورت بڑھ کر 62 ملین ٹن تک پہنچ جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ پیداوار کا اصل ہدف اس کے صارفین اور ان کی ضروریات کا پورا کرناہے۔ پاکستان میں 2014 سے صنعتی ترقی کے عمل میں اضافے کا رجحان جاری ہے اور اس کے دائرہ عمل میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔ ڈاکٹر عشرت کا کہنا تھا کہ تجارت کا دارومدار بھی صنعتی پیداوار اور اس سے ملحقہ خدمات کے مختلف شعبوں سے ہے۔ خدمات کا شعبہ جس قدر بہتر ہوگا، پیداوار بھی اسی شرح سے بڑھے گی۔ صنعتی پیداوار کی مانگ میں اضافے کے لئے خدمات کا شعبہ اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ ہمیں کم مہارت سے درمیانی اور پھر اعلی درجے کی مہارت کے لئے ویلیو چین کی جانب بڑھنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں غربت کے خاتمے کے لئے ہر سطح پر طرز زندگی کو بدلنا ہوگا۔

سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی سیکریٹری منصوبہ بندی کہنا تھا کہ معاشی ترقی، غربت کے خاتمے اوروسائل و آمدن میں عدم مساوات کے ضمن میں روزگار کی فراہمی اور اس کے مواقع پیدا کرنا نہایت ہی اہم ہے۔ شعیب صدیقی کا کہنا تھا کہ وسائل کی منصفانہ تقسیم، پیداواریت کے ساتھ ساتھ روزگار کے مواقع پیدا کرنا اور تعلیم یافتہ و ہنرمندافراد کی استعداد کار میں اضافہ حکومتی پالیسی ساز اداروں کے لئے اہم چیلنج کی حیثیت رکھتے ہیں۔ سیکریٹری منصوبہ بندی کا کہنا تھا کہ حکومت ماہرین کی مشاورت کے ساتھ وسائل کی دستیابی، ان کے مؤثر استعمال شرح نمو میں اضافے، پیداواری صلاحیت میں اضافے، غربت کے خاتمے، سی پیک کی بدولت ترقی اور روزگار کے مواقع استعمال کرنے کے کئے جامع روڈ میپ پر عمل پیرا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں میں ہنرمندی کے فروغ کے لئے نیشنل ووکیشنل اینڈ ٹیکنیکل ٹریننگ سنٹر کے تعاون سے مختلف اقدامات کر رہی ہے۔ شعیب صدیقی کا کہنا تھا کہ سی پیک کی بدولت توانائی، انفراسٹرکچر اور تعمیرات کے شعبے میں سرمایہ کاری ہوئی جس سے روزگار کے مواقع پیدا ہوئے۔