Public Awareness Campaign ON Corruption: "United Against Corruption for a Prosperous Pakistan....."

Press Release

Ministry of Planning clarifies news article on Wes...

Published : 8 December 2018

The Ministry of Planning, Development & Reform has clarified a news a...


Government committed to provide conducive environm...

Published : 7 December 2018

Federal Minister for Planning, Development & Reform Makhdum Khusro Bak...


Governance and Civil Service Reforms are need of t...

Published : 7 December 2018

Federal Minister for Planning, Development and Reform Makhdum Khusro B...


Central Development Working Party has approved 3 d...

Published : 30 November 2018

Central Development Working Party has approved 3 development projects ...


ہے کہ ایک ایسے وقت میں جبکہ دنیا میں اقتصادی ترقی کی رفتار سست روی کا شکار ہے، بیلٹ اور روڈ منصوبہ تازہ ہوا کا جھونکا ثابت ہوا ہے۔

Dated : 12 April 2018

بیجنگ ۔ 12 اپریل

وفاقی وزیر داخلہ، منصوبہ بندی، ترقی و اصلاحات پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ ایک ایسے وقت میں جبکہ دنیا میں اقتصادی ترقی کی رفتار سست روی کا شکار ہے، بیلٹ اور روڈ منصوبہ تازہ ہوا کا جھونکا ثابت ہوا ہے۔ وہ جمعرات کو بیجنگ میں منعقدہ بیلٹ اینڈ روڈ ٹریڈ اینڈ انوسٹمنٹ فورم کے اختتامی سیشن سے ”مشترکہ مستقبل کیلئے مواقع“ کے موضوع پر خطاب کر رہے تھے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ انسانی تہذیب کے ایک دلچسپ زمانے میں رہ رہے ہیں، تاریخ میں کبھی بھی کسی نسل نے اتنے زیادہ مواقع نہیں دیکھے جو کہ ہم دیکھ رہے ہیں، تاریخ میں کسی بھی انسانی نسل نے اتنے زیادہ خطرات کا سامنا نہیں کیا جن کا سامنا ہمیں ہے۔ بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے اور سی پیک کے اثرات کے حوالہ سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان نے گذشتہ 14 سالوں میں انفراسٹرکچر کے شعبہ میں سرمایہ کاری نہیں کی گئی جو کہ ایک جدید معیشت کیلئے ضروری تھی۔ پاکستان کو یہ سرمایہ کاری نہ ہونے کے باعث 16 سے 18 گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا، 2013ءمیں ہم نے اقتدار سنبھالنے کے بعد اس معاملہ پر توجہ دی اور ایک سال کے اندر 46 ارب ڈالر کے منصوبوں میں سے 35 ارب ڈالر توانائی کے منصوبوں کیلئے مختص کئے گئے، اتنی بڑی لاگت کے یہ منصوبے کوئی قرضہ نہیں بلکہ یہ چینی سرمایہ کاروں کی طرف سے پاکستان میں سرمایہ کاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ 27 ارب ڈالر سے زائد کے منصوبوں پر کام کا آغاز ہو چکا ہے۔ پروفیسر احسن اقبال نے دونوں ممالک کے باہمی مفاد کے حوالہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سی پیک صنعتی تعاون، چینی سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی اور مصنوعات کی کم لاگت سے تیاری سے پاکستان اور چین دونوں استفادہ کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چینی سرمایہ کاروں کیلئے بہترین موقع ہے کہ وہ پیداوار کی کم لاگت سے استفادہ کرتے ہوئے سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھائیں اور پاکستانی کمپنیوں کیلئے بھی بہترین موقع ہے کہ وہ ملک میں نئی صنعتیں قائم کریں اور چینی کمپنیوں کے ساتھ اشتراک کرتے ہوئے مقامی سطح پر ملازمت کے مواقع پیدا کریں۔ انہوں نے کہا کہ بیلٹ اینڈ روڈ منصوبہ کا بنیادی مقصد مشترکہ خوشحالی ہے اور اس کے تحت نہ صرف حکومتوں کے درمیان بلکہ کاروباری کمپنیوں کے مابین اشتراک کار قائم کرنا ہے