Public Awareness Campaign ON Corruption: "United Against Corruption for a Prosperous Pakistan....."

Press Release

Inauguration Ceremony of Ground Control Stations a...

Published : 14 August 2018

Pakistan’s first Remote Sensing Satellite (PRSS-1) and Pakistan’s ...


وفاقی وزارت منصوبہ بندی می...

Published : 10 August 2018

وفاقی وزارت منصوبہ بندی میں چاروں صو...


The first nationwide Soil-Transmitted Helminths (S...

Published : 6 August 2018

Earlier, on 15th May 2018, the Ministry of Planning Development & Refo...


نگراں وزیر برائے منصوبہ بند...

Published : 3 August 2018

نگراں وزیر برائے منصوبہ بندی ترقی و ا...


اسلام آباد وزارت منصوبہ بندی ترقی و اصلاحات کے زیر اہتمام پی بلاک پاک سیکرٹریٹ میں پی سی ون آٹومیشن سسٹم کی افتتاحی تقریب سے احسن اقبال کا خطاب

Dated : 28 December 2017

اجلاس کی صدارت وفاقی وزیر احسن اقبال نے کی جبکہ وزارت کے اعلی عہدیداران سمیت دیگر متعلقہ افسران نے اس میں شرکت کی۔ اس موقع پر وفاقی وزیر احسن اقبال کا کہنا تھا کہ علم پر مبنی معیشت کے لئے ٹیکنالوجی کا حصول اور فروغ وقت کی اہم ترین ضرورت ہے, آج کا دور معاشی نظریات اور معیشت میں شرح نمو میں مقابلے بازی کا ہے۔ دنیا میں وہی قومیں آگے بڑھ رہی ہیں ج مقابلے بازی میں ٹیکنالوجی کا مؤثر استعمال کر رہی ہیں۔ احسن اقبال نے کہا پی سی ون کو خودکار بنانا ایک تاریخی سنگ میل ہے، پی سی ون کو خودکار بنانے سے وقت اور وسائل کی بچت اور منصوبوں کی نگرانی میں بہتری آئے گی، پی سی ون آٹومیشن حکومت کی جانب سے معیشت کو ڈیجیٹل بنانے کے عزم کا ثبوت ہے، انہوں نے کہا حکومت اپنے وعدوں اور منشور کی روشنی میں ڈیجیٹل پاکستان کے لئے مسلسل اقدامات کر رہی ہے، چند سال قبل جب ڈیجیٹل پاکستان کے لئے لیپ ٹاپ اسکیم کا اجراء کیا گیا تو لوگوں نے طرح طرح کی باتیں کیں، احسن اقبال نے مزید کہا کہ آج لیپ ٹاپ اسکیم اور ڈیجیٹل پاکستان کے لئے کئے گئے اقدامات کی بدولت پاکستان دنیا بھر میں انٹرنیٹ کے ذریعے فری لانسنگ خدمات مہیا کرنے والا چوتھا بڑا ملک بن چکا ہے، حکومت نے ای آر پی، کلاؤڈ ڈیٹا، بگ ڈیٹا اور ایک لاکھ نوجوانوں کو انفارمیشن ٹیکنالوجی کی تربیت دینے کے لئے ایک ارب روپے سے زائد کی رقم مختص کی ہے۔ اجلاس کے اختتام پہ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں دنیا میں آگے بڑھنے اور اپنے مسائل کے حل کے لئے دھرنوں پر نہیں سیاسی و
معاشی استحکام پر اے پی سی کرنے کی ضرورت ہے